fbpx

What is the Meaning of Successful life in Urdu

:کامیاب زندگی

What is the Meaning of Successful life in Urdu 1

إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ
(ترجمہ: بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے (آیت 11 سورة الرعد)

اللہ تعالی نے انسان کو بہترین نعمتوں سے نوازا ہے۔اسے صحیح اور غلط کی پہچان عطا کی ہے اور یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جس راہ پر چاہے چلے۔لیکن ساتھ ہی ان مختلف راہوں پر چلنے کے فوائد و نقصانات سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ‘صراط مستقیم’ کا انتخاب کر کے دنیا و آخرت میں سرخرو ہو یا راہ ہدایت سے ہٹ کر ناکامی کی راہ پر چل پڑے۔

انسان کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار بہت حد تک اس کے عادات و اطوار پر ہوتا ہے۔ جو خیالات اور نظریات اس کے ذہن میں راسخ ہو جائیں وہ اس کی شخصیت کا اہم حصہ بن جاتے ہیں اور اس کے افعال میں ان کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لہذا ایک کامیاب انسان بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے رویوں اور عادات کا احتساب کرتا رہے۔ جن رویوں کو وہ اپنے لئے تکلیف دہ سمجھتا ہے ان سے دوسروں کو محفوظ رکھے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسی عادات کو کس طرح اپنی شخصیت کا حصہ بنایا جائے؟

کسی بھی کام کو بہتر طور پر سر انجام دینے کے لئے شعوری کوشش اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان عموما جب کسی تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے تو ابتداء میں اس کے لئے نت نئے منصوبے بناتا ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کی دلچسپی کا محرک بدل جاتا ہے چنانچہ وہ خواہشات الماری میں پڑی کتابوں کی مانند گرد آلود ہوتی رہتی ہیں۔ کامیابی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم نفس پر پڑتا ہے۔

کیونکہ نفس انسان کو سہل پسندی اور منفی سوچ کی طرف مائل۔کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ اگر اس کی آواز پر توجہ دی جائے تو منزل کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ انسان خود ترسی، سہل پسندی،اور منفی سوچ سے نجات حاصل کرے۔

بعض افراد اکثر تقدیر یا خود سے وابستہ لوگوں سے شکوہ کرتے عمر بتا دیتے ہیں لیکن اپنے رویے اور انداز فکر میں تبدیلی نہیں لاتے جو تکلیف کا اصل محرک ہے۔ دنیا کی زندگی تو ایک امتحان ہے۔ یہاں انسان کے لئے یہی تو چیلنج ہے کہ وہ اپنے حصے کی آزمائشوں سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے رویے کو درست رکھے۔ کسی نا قابل قبول عادت کو محض ترک کر دینا کافی نہیں۔

جب تک ذہن کو اس کامتبادل فراہم نہ کیا جائے وہ الجھا رہے گا۔کیونکہ خالی جگہ دوبارہ بھر دی جاتی ہے۔اگر معقول متبادل نہ ملے تو ایک غلط سوچ کی جگہ دوسری غلط سوچ ذہن میں جگہ بنا لےگی۔ اس لئے لازم ہے کہ کوئی مناسب مشغلہ اپنایا جائےجو ذہن کو مصروف رکھے اور بے جا وسوسوں سے بچائے۔

تبھی انسان یکسوئی سے کوئی اچھا اور تعمیری کام کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ قدرت نے انسان کو زندگی گزارنے کے ذرائع اور عقل جیسی نعمتیں بھی عطا فرمائی ہیں۔اب یہ فیصلہ انسان کو خود کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس ڈگر پر لے کر چلتا ہے۔ کوشش سے حالات بدلنے کا اختیار انسان کو ودیعت کر دیا گیا ہے۔اس اختیار کےدرست استعمال سے اپنی اور خود سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں کو بدلا جا سکتا ہے۔

Sharing Is Caring:

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

error: Content is protected !!