fbpx

What Is Depression In Urdu?, علامات اور علاج

What Is Depression In Urdu, علامات اور علاج

What Is Depression In Urdu, علامات اور علاجWhat Is Depression In Urdu, علامات اور علاج

ڈپریشن جسےاردومیں ذہنی دباؤ کے نام سے جانا جاتا ہے ایک عام لیکن اہم بیماری ہے ۔عہد حاضر میں اس کےمتاثرین میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

علامات :

اس مرض کی چند اہم علامات مندرجہ ذیل ہیں۔

بھوک پیاس میں کمی یا زیادتی:

ذہنی دباؤ کے سبب انسان کی بھوک پیاس یا تو بالکل ختم ہو جاتی ہے اور کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا یا پھر اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کھانے پینے سے جی ہی نہیں بھرتا۔انسان کے کھانے پینے کے معمولات متاثر ہوتے ہیں اور جسمانی صحت پہ برا اثر پڑتا ہے۔ کم کھانے سے بدن کمزور ہو جاتا ہے جبکہ خوراک کی زیادتی موٹاپے کی طرف مائل کرتی ہے۔

نیند کا معمول سے کم یا زیادہ ہو جانا:

ڈپریشن کے سبب کچھ مریض بے خوابی کا شکار ہو جاتے یں اور بالکل نہیں سو پاتے جبکہ بعض لوگ زیادہ نیند آنے کی شکایت کرتے ہیں۔ دونوں ہی صورتیں مضر صحت ہیں اور

دیگر امراض کو جنم دیتی ہیں۔

تھکاوٹ اورسستی:

طبیعت میں سستی اور کاہلی درآتی ہے اور کوئ کام کرنے کا جی نہیں چاہتا۔ انسان خود کو تھکا ہوا اور بیزار محسوس کرتا ہے۔

چڑچڑاپن:

ڈپریشن مزاج میں منفی تبدیلی لاتا ہے۔ کسی سے بات کرنے کو جی نہیں چاہتا۔بلاوجہ غصہ آتا ہے۔ کوئی بات کرے تو لڑنے کو جی چاہتا ہے۔

عدم دلچسپی:

مریض اپنے مشاغل اور پسندیدہ کاموں میں بھی دلچسپی محسوس کرناچھوڑدیتا ہے۔اسے اپنی زندگی غیر اہم لگتی ہے۔ بعض اوقات یہ احساس اتنی شدت اختیا ر کر لیتا ہے کہ وہ خود کشی کے طریقے سوچنے لگتا ہے۔

اکتاہٹ :

ڈپریشن ذہن کو آکٹوپس کی مانند جکڑ لیتا ہےاور مثبت طرز فکر کا خاتمہ کر دیتا ہے طبیعت میں اکتاہٹ اوربیزاری بڑھ جاتی ہےاور دنیا بے مصرف اور بے کار لگتی ہے۔

سر میں درد :

سوچوں کا اژدھام بے خوابی اور پریشان کن خیالات کی یلغار سر درد کا شکار کر دیتی ہے۔ دیگر اعضاء بھی اینٹھن اور درد میں جکڑ جاتے ہیں۔

جسمانی تبدیلی

آنکھوں کے گرد ہلکے چہرے پر تفکر کی لکیروں میں اضافہ رنگ کا پیلا پڑنا وزن کا تیزی سے کم یا زیادہ ہونا بھی ڈپریشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ذہنی تبدیلی:

انسانی ذہن پر ڈپریشن کا بہت برا اثر پڑتا ہے جس کے سبب چھوٹے مسائل بھی گھمبیرمعلوم ہوتے ہیں۔وہم اور شک کرنے میں اضافہ ہوتا ہے ۔انسانی ذہن سے خوشی اور اطمینان رخصت ہو جاتا مختلف خوف اور ڈر اسے گھیرے رہتے ہیں۔

وجوہات :

مختلف لوگوں میں ڈیپریشن کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں مثلا:

توارث:

جن لوگوں کے جینز میں یہ مرض شامل ہووالدین یا دیگر قریبی رشتہ داروں میی ڈپریشن کی علامات پائی جاتی ہوں۔ان میں اس مرض کا شکار ہونے کے چانسز زیادہ ہو تے ہیں۔

صحبت:

جو لوگ گھر یا گھر سے باہر زیادہ وقت ڈپریشن والے افراد کے ساتھ گزارتے ہوں ان کے متاثر ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتاہے۔

موسمی تبدیلی:

سردی یا خزاں کا موسم بھی بعض افراد میں اداسی یا ڈپریشن پیدا کر سکتا ہے۔اسے سیزنل ڈپریشن کہتے ہیں۔

معاشرتی مسائل:

بے جا پابندیاں اور رسوم ورواج انسان کو ڈپریشن میں مبتلا کرتے ہیں۔معاشرتی اونچ نیچ اور دوسروں سے مسابقت کا جزبہ بھی خرابی کی وجہ بنتا ہے۔ اردگرد کے لوگوں کے نا مناسب رویے اور جائز مقام کا نہ ملنا بھی انتشار پیدا کرتا ہے۔

ملکی مسائل :

امیر اور غریب کیلئے الگ قوانین ناانصافی اور حق تلفی بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ بے ہنگم ٹریفک بےروزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی پریشانی کا باعث ہیں۔سیاسی سطح پر مایوسی اور بے یقینی کے حالات بھی ڈپریشن کو جنم دیتے ہیں۔

گھریلو مسائل:

گھریلو لڑائی جھگڑے ضروریات کا پورا نہ ہونا خرچ کا آمدن سے زیادہ ہونا عزت اور محبت میں کمی ۔شک شبہ اور بدزبانی بھی ڈپریشن کی اہم وجوہات ہیں۔

طویل بیماری:

کسی بیماری کا لا علاج ہونا یا بہت طویل ہو جانا بھی ڈپریشن پیدا کرتا ہے ۔اکثر خواتین بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں۔

علاج:

یہ مرض اگرچہ عام ہے لیکن خوش قسمتی یہ ہے کہ قابل علاج ہے۔ ہسپتالوں میں باقاعدہ ذہنی صحت کے شعبہ جات موجود ہیں۔ان میں قابل ڈاکٹر مریضوں کی رہنمائی اور علاج کرتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے کسی مستند معالج سے رابطہ کر لیا جائے کیونکہ ابتدائی مرحلے میں علاج آسا اور کم وقت میں ہو جاتا ہے تاخیر کی صورت میں معاملہ بگڑ سکتا ہے۔کچھ معالج کے مخصوص ذاتی کلینک بھی ہوتے ہیں۔ادویہ کے ذریعے بھی ڈپریشن کا علاج کیا جاتا ہے اور سوال و جواب کے ذریعے بھی مریض کی تشفی کی جاتی ہے۔علاج کے ساتھ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی صحت یاب ہونے میں معاون ثابت ہوتی مثال کے طور پرفلاحی کاموں میں حصہ لینا دوسروں کی مدد کرنا خوش رہنے کی کوشش کرنا ۔مثبت کاموں میں مصروف رہنا اچھی کتب کا مطالعہ مزاحیہ اور خوشگوار پروگرام دیکھنا بچوں کے ساتھ وقت گزارنا۔فنون لطیفہ یعنی مصوری خطاطی اور مو سیقی میں دلچسپی لینا اچھی خوراک اور ورزش کو معمول بنانا وقت پر دوا لینا اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا مرض سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتا ہے۔

Sharing Is Caring:

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.