fbpx

Jack Ma Success Story in Urdu | جیک ما – علی بابا کے بانی کی متاثر کن کہانی

Jack Ma Success Story in Urdu

چین کے نامور بزنس مین جیک ما جو مشہور ای کامرس کاروباری ویب سائٹ علی بابا کے مالک ہیں۔ وہ اس وقت  چین کے کامیاب ترین کاروباری شخص ہیں۔ان کا سرمایہ تقریبا بیس 20 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
لیکن یہ صرف وہ حقائق ہیں جو ان کی کامیابی اور جدوجہد کے بعد کی کہانی ہے۔وہ یہاں تک کیسے پہنچے اس سفر کی داستان دیکھیئے۔

جیک اس مقام۔تک طویل جدوجہد کے بعد پہنچےہیں۔سن کر حیرت ہوتی ہے کہ کوئی آدمی ایسے مشکل حالات میں کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔ جیک  کے بچپن کا کچھ تذکرہ ہو جائے وہ10 ستمبر 1964ء کو چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 13 سال کی عمر میں ہی انہوں نے انگریزی زبان سیکھنا شروع کر دی تھی۔ اس دور میں وہاں  کے مقامی لوگ قومی زبان چائینز کو اہمیت دیتے تھے۔

چنانچہ جیک کے پاس کوئی اتالیق نہیں تھابلکہ انہوں نے انگریزی کسی استاد کی بجائے چین جانے والے سیاحوں سے سیکھی۔ وہ ٹورسٹ گائیڈ  بھی محض انگریزی زبان سیکھنے کے لیے ہی بنے۔ جیک جب بھی سیاحوں کے ساتھ کہیں جاتے تو ان سے انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کرتے تاکہ سیکھ اور بول

سکیں۔ جیک نے ٹورسٹ گائیڈ کا کام تقریبا 9 سال تک کیا۔جیک کا پڑھائی کی جانب خاص میلان نہ تھا اسی لیے وہ چوتھی جماعت سے آٹھویں تک متعدد بار ناکام ہوئے۔ آخر کارکسی طرح یہ جماعتیں پاس کیں تو پھر گریجویشن میں تعلیمی سرگرمیاں جوئے شیر لانے کے مترادف تھیں
بہرحال کسی طور یہ معرکہ بھی سر ہوا تو ملازمت کی منزل کی جانب قدم بڑھایا
 

جیک نے تیس مختلف جگہوں پر ملازمت کے لیے کوشش کی مگر کہیں کامیابی نہ ملی۔ کے ایف سی میں بھی ملازمت کے حصول کے لئے کوشش
کی۔اس وقت وہ چین میں اک۔نیا بزنس تھا۔24 لوگ اس انتخاب میں شامل ہوئے۔23 کو ملازمت مل۔گئ جبکہ جیک کے مطابق وہ اکیلے تھے جنہیں مسترد کیا گیا۔

انگریزی سیکھنےاور اس میں مہارت ہونے کی وجہ سے انکو ایک کالج میں انگریزی کا پروفیسر رکھ لیا گیا۔ 1995 میں جیک اپنے ایک قریبی دوست سے ملنے امریکہ چلے گئے۔ وہاں جا کر انہوں نےپہلی دفعہ انٹرنیٹ استعمال کیا اور پھر وہیں سے ان کی کامیابی کا آغاز ہوا۔ نیٹ سے وابستہ ایک کاروبار کا خیال ان کے ذہن میں آیا۔ اپنے ملک کے لوگوں کو انٹرنیٹ سے متعارف کروانے کے لیے انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ویب سائٹ ڈیزائن کی۔ جو فنڈذ نہ ملنے کی وجہ سے جلد ہی بند کرنا پڑی۔ لیکن ہمت نہ ہارتے ہوئے انہوں نے دوبارہ ایک ویب سائٹ علی بابا کے نام سے بنائی، جو شروع میں مسائل سے دوچار ہوتی رہی مگر رفتہ رفتہ کامیاب ہوتی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی بن گئ

جیک ماہ دور حاضر میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کئے جاتے ہیں۔جیک کی ہمت اور عظم کی یہ داستان ہمیں بھی کامیابی سے پیچھے نہ ہٹنے اور مستقل مزاج رہنے کا سبق دیتی ہے انسان مستقل مزاجی سے آخر کار اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

Sharing Is Caring:

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

error: Content is protected !!