fbpx

Covid 19 Vaccine Pakistan Me kab aayege. کرونا ویکسین پا کستان میں کب آۓ گی

Covid 19 Vaccine Pakistan Me kab aayege

Covid 19 Vaccine Pakistan Me kab aayege

کرونا ویکسین پا کستان میں کب آۓ گی

کرونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت کو دیکھتے ہوۓ آج کل ہر دوسرا انسان اس بات پر بحث کر رہا ہے کہ کیا سائنس دانوں نے کرونا ویکسینیشن تیار کر لی ہے اور اگر تیار ہو چکی ہے تو اس وقت یہ ویکسینیشن کن کن ممالک میں دستیاب ہے اور سب سے اہم اور ضروری پوائنٹ یہ کہ یہ دوا پاکستان میں کب آۓ گی اور عام انسان کی پہنچ میں کب تک ہو گی اس دوا کی قیمت کیا ہے اور کی اس کو ہر خاص و عام خرید سکتا ہے ؟ تو آپ کے ان سب سوالوں کے جوابات اس آرٹیکل میں موجود ہیں

کرونا ویکسینیشن کیا ہے ؟

ویکسینیشن انسانی جسم میں دفاعی نظام کے ری ایکشن پر مبنی محلول کو کہتے ہیں
اس کو جسم میں مختلف طریقوں سے انجیکٹ کا جاتا ہے۔

کچھ بیماریاں کرونا کی طرح بے حد مہلک ہوتی ہیں یا پھر شدید علامات کا سبب بنتی ہیں، لہذا بہتر حل یہی ہوتا ہے کہ ویکسینیشن لگوا کر ان سے ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لیے نمٹ لیا جائے

ویکسینیشن تیار کرنا آسان عمل بالکل بھی نہیں ہے۔ جب سے دنیا کو کووڈ 19 کا سامنا ہوا ہے پوری دنیا کی نظریں سائنسدانوں پر لگی تھیں کہ وہ کوئی دوا بنا کر دیں جس سے آناََ فاناََ کورونا کا مہلک ترین اثر بھی ذائل ہو جاۓ۔

اس سلسلے میں بہت سی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں لیکن ویکسین کی تیاری کا عمل پیچیدہ اور ٹائم ٹیکنگ ہوتا ہے مالیکیولز کی دریافت ویکسین کی پری کلینیکل‘ اور پھر کلینیکل جانوروں اور انسانوں پر آزمائشیں
اس کے بعد مقامی محکمہ صحت سے منظوری اور بڑے پیمانے پر تیاری کے بعد ہی ویکسینیشن نے مارکیٹ میں آنا تھا.

کرونا ویکسینیشن کب اور کس کمپنی نے تیار کی

ہم یہ بات بتاتے ہوۓ بے حد خوش ہیں کہ 8 دسمبر 2020 وہ تاریخی دن ہے جب امریکی میڈیسن کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیو این ٹیک نے مشترکہ کاوشوں سے تیار کردہ ویکسین برطانیہ میں ایک 91 سالہ خاتون کو لگاکر ویکسینیشن کے عالمی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔

ان دونوں کمپنیوں نے اپریل میں اپنی ویکسین کا پہلا آزمائشی ٹرائل شروع کیا تھا، جس کے بعد ویکسین کے تین ٹرائل بھی ستمبر کے آخر تک پورے کیے جو بے حد کامیاب رہے

ٹرائلز سے ہی یہ بات کنفرم ہو گئی تھی کہ ویکسین کورونا کے خلاف 95 فیصد کام کرتی ہے۔

کرونا ویکسین کن کن ممالک میں دستیاب ہے

جب مقامی سطح پر ویکسینیشن کو محفوظ قرار دے دیا گیا تو ان کمپنیوں نے امریکا سمیت دیگر ممالک کی ڈرگ ریگولیٹر اداروں سے ویکسین کے عام استعمال کی اجازت طلب کی اور سب سے پہلے برطانیہ کی ڈرگ ریگولیٹر کمپنی نے ویکسین کے عام استعمال کی منظوری 2 دسمبر کو دی۔

اس سے مزے کی بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت نے ویکسین کے استعمال کی منظوری دینے سے پہلے ہی کمپنیوں کو ویکسین کے لیے آرڈرز دے رکھے تھے اور 8 دسمبر کو ہی برطانیہ میں یہ ویکسین عام انسان تک پہنچ گئی لیکن باوجود اس کے برطانیہ میں کرونا کی لہر اس قدر شدید ہے کہ پاکستان نے 21 دسمبر کو مختصر مدت کے لیے برطانیہ کی فلائٹس ہی بند کر دی ہیں۔

بہرحال برطانیہ جہاں وہ پہلا ملک بنا جس نے کورونا کی ویکسین کے عام استعمال کی اجازت دی

دوسرے نمبر پر کینڈین حکومت نے برطانیہ کے بعد اگلے ہی دن ویکسینیشن کی منظوری دے دی اور ابتدائی طور پر کینیڈا کو ڈھائی لاکھ کے قریب ڈوز ملیں گی، جنہیں سوا لاکھ افراد کو لگایا جائے گا، کیوں کہ ویکسین کی دو ڈوز ہر شخص کو لگنی ہیں

اس کے بعد جرمنی میں بھی ویکسینشن 15 دسمبر سے دستیاب ہے

برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق اب یورپی ممالک کے بعد ممکنہ طور ایشیائی ممالک ویکسین کے استعمال کی اجازت دیں گے تاہم ایسا کب تک ہوسکتا ہے، اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

امریکہ کے علاوہ کون سے ممالک یہ ویکسین تیار کر چکے ہیں

آکسفورڈ یونیورسٹی و میڈیسن کمپنی آسترازینیکا ک تعاون سے ویکسین کے حتمی آرمائشی مراحل کے نتائج بھی 9 دسمبر کو منظر عام پر آگۓ اگرچہ آکسفورڈ اور آسترازینیکا کی ویکسین کووڈ کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے ساتھ بیماری اور موت سے بھی تحفظ فراہم کرے گی لیکن اس کے باوجود مزید آزمائش کی ضرورت ہے۔ یہ 96 فیصد موثر ہے

چین کی ویکسین بھی پراسس میں ہے  اوراس ویکسین کو 86 فیصد تک مؤثر قرار دیا گیا۔

بیجنگ انسٹیٹوٹ آف بائیولوجیکل کی تیار کردہ ویکسین کا تیسرا مرحلہ یو اے ای میں جولائی میں شروع ہوا تھا، جس کے نتائج 10 دسمبر کو جاری کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ویکسین 86 فیصد تک مؤثر ہے۔

روسی سائنسدانوں نے نومبر کے شروع میں  کورونا ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور  5 دسمبر کو اسپوٹنک 5 نامی ویکسین کو عام افراد پر بھی استعمال کرنا شروع کیا

مجموعی طورپر کرونا کی 154 ویکسینیشن تیار کی گئیں جن میں سے 21 کامیاب رہیں اور ٹرائل کے مراحل میں ہیں 10 دسمبر 2020 تک صرف ایک ہی فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین ایسی تھی جس کے تمام ٹرائلز مکمل ہوچکے تھے لیکن عالمی ادارہ صحت who نے اسی دن رپورٹ جاری کی اور دنیا میں کسی بھی ویکسین کو محفوظ قرار نہیں دیا البتہ بعض کمپنیوں کی ویکسینز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت خود کسی بھی ویکسین کو اس وقت ہی مستند مانے گا جب کوئی بھی ویکسین کو امیر و ترقی پذیر ممالک اپنے ہاں عام استعمال کی اجازت دینے کے بعد اس کے نتائج کو جاری کریں گے۔

پاکستان میں کرونا ویکسینیشن کب آۓ گی اور اس کی قیمت کیا ہو گی

حکومت پاکستان نے کورونا کی کوئی بھی ویکسین خریدنے کے لیے 10 کروڑ ڈالرز مختص کردیے ہیں.

7 دسمبر 2020 کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پریس کانفرس کی اور کہا کہ  حکومت کورونا ویکسین حاصل کرنے کے لیے چین اور روس سمیت دیگر ممالک سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور حکومت کو اُمید ہے کہ ویکسین آئندہ سال جنوری سے مارچ کے درمیان ملک میں دستیاب ہوگی۔

یہاں ایک بات واضح کر دیں کہ پاکستان فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے بجائے چین یا روس کی ویکسین پر انحصار کرے گا، کیوں کہ فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین پاکستان کے موسمی حالات کی وجہ سے یہاں اتنی مؤثر نہیں ہوگی۔

کورونا کی کوئی بھی ویکسین عام استعمال نہیں کی جا رہی ہے ، ایسے میں کورونا کی ویکسین کی قیمت کا تعین کرنا مشکل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر طرح کی ویکسین کی قیمت 4 امریکی ڈالر سے 50 امریکی ڈالرز کے درمیان ہوگی جو پاکستانی 650 روپے تک بنتے ہیں یعنی ایک شخص کو مکمل دو ڈوز حاصل کرنے کے لیے 1300 روپے تک خرج کرنے پڑیں گے۔ یہ فنانشل ٹائم کی ایسٹی میٹ کیلکولیشن ہے ہو سکتا ہے قیمت اس سے بھی زیادہ ہو.

ملک میں یہ ویکسین سب سے پہلے کورونا کے خلاف جنگ میں مصروف ’فرنٹ لائن ورکرز‘ یعنی طبی عملے کو دی جائے گی۔

جہاں بہت سے لوگ جلد سے جلد ان ویکسینز کو لگوانے کے لیے بیتاب ہیں وہیں کچھ لوگ ایک انجان دوا کو اپنے جسم میں داخل کرنے پر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مارچ تک کیا واقعی ویکینیشن پاکستان آ جاتی ہے اور اس کے کیا نتائج ہونگے یہ تو استعمال کے بعد ہی بتایا جا سکے گا.

Sharing Is Caring:

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

error: Content is protected !!