fbpx

14th August speech in Urdu | چودہ اگست اور قیام پاکستان

14th August speech in urdu

14th August speech in Urdu. On 14 August 1947, Pakistan became an independent country. It happened one day before Indian independence day. India was divided.

East and West Pakistan were established from Muslim prevalence regions. Our Independence Day is celebrated yearly on 14 August. It is a national holiday in Pakistan. It commemorates when Pakistan attained freedom and was announced as a free nation in 1947.

That was the end of British rule in the Indian subcontinent. The main motive for partition was the two-nation theory presented by Sir Syed Ahmed Khan. It stated that Muslims and Hindus were extremely different and could not live in one country.

14 august aur Qayam e pakistan

چودہ اگست اور قیام پاکستان

زندگی مسلسل کوشش کر کے آگے بڑھنے کا نام ہے۔اپنی بقا کی جدوجہد اوراپنے مقصد حیات کو حاصل کرنے کا شوق انسان کو اس خلافت کا اہل بناتی ہے  جس کے لئےرب کریم نے اسے منتخب کیا ہے۔

انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی معاملات تک انسان پرچند قوائد و ضوابط کی پابند لازم ہے جن کے بغیرزمیں پر اس کی خلافت کا تصورممکن نہیں ہے۔

 سورة الزاریات کی آیت # 56 میں ارشاد باری تعالی ہے

 وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں

عبادت انسان کے طرز زندگی اور اخلاقیات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ دنیا کے سب مذاہب کے طریقہ عبادت میں فرق نظر آتا ہے۔ اور اسی وجہ سے ان کی ثقافت بھی ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یہی فرق”نظریہ پاکستان” کی بنیاد بنا اور قیام پاکستان کی وجہ بنا۔

۔وطن عزیزکی تحریک آزادی درحقیقت مسلمانوں کے  تشخص ،مذہبی عقائداورتمدن کے تحفظ کی ایک  بے مثال تاریخی جدو جہد تھی ۔اس تحریک کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی شناخت کو واضح کرنا تھا۔ اس خیال پر عمل کے لیے ایک الگ وطن کا قیام لازم تھا ۔

اس جدوجہد کو تحریک پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس کا آغازاس وقت ہوا جب 1930ء میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برصغیر کے شمال مغربی حصےمیں جداگانہ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ پیش کیا۔

14 august speech in urdu

اقبال رح کے اس خواب کو تعبیر دینے کے لئے مختلف  شخصیات نے اہم کردار ادا کیا جن میں چودھری رحمت علی  کا نام نمایاں ہے۔انہوں نے 1933ء میں “پاکستان”  کا نام تجویز کیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938ء کے سالانہ اجلاس میں برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے قرارداد منظور کروالی۔اقائد اعظم 1930ء میں الگ مسلم ملک کے قیام کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940ء تک قائد اعظم نےقوم کو ذہنی طور پر علیحدہ وطن کی جدوجہد کے لئے تیار کر لیا۔اس کے بعد 23 مارچ 1940 کو لاہور میں “منٹو پارک” میں برصغیر کے مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع منعقد ہوا۔اس میں  ہندوستان بھر سے مسلمانوں نے  شرکت کی۔اس موقع پر ایک قرارداد منظور ہوئی جس کے مطابق مسلمانان ہند نہ صرف یہ کہ انگریزوں سے آزادی چاہتے تھے بلکہ ہندوؤں سے بھی الگ ہونے کے خواہشمند تھے۔

                                                          قیام پاکستان کوئی جذباتی مطالبہ نہیں تھا۔ انگریزوں کا رویہ متعصبانہ تھا اس کے علاوہ ہندوؤں کی مسلمان دشمنی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا استحصال، سرکاری ملازمتوں اور اعلی عہدوں سے

محرومی، اردو ہندی تنازعہ، 1857ء کی جنگ آزادی  کے بعد ہندوؤں کی اسلام دشمنی اور اس طرح کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ مسلمانوں کا ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہنا ان کے حقوق کی پامالی کا سبب ، اور تہذیب و ثقافت کے لئے خطرہ ہے۔

                          چنانچہ مسلمانوں کی لاتعداد قربانیوں کے نتیجے میں یہ مملکت خداداد 14 اگست 1947 کومعرض وجود میں آئی۔

لیکن مصائب ختم نہیں ہوئے اثاثہ جات کی تقسیم میں  تعصب برتا گیا۔مسئلہ کشمیر آج تک حل نہیں ہوا۔آزادی کا مطلب محض زمین حاصل کرنا نہیں  بلکہ ذہنی غلامی سے چھٹکارہ ہے۔

پاکستان کی ثقافت اور رسوم پر اب بھی ہندو معاشرے کا اثر نمایاں ہے۔

 ۔رشوت، فرقہ واریت،سود، عدم برداشت،بدعنوانی،اقرباءپروری، استحصال اور،منفی سوچ میں قائد کا خواب کہیں کھو گیا ہے۔ آبا و اجداداکی قربانیوں کو بھلا  کر وطن کو تنزلی کی راہ پر لا کرحب الوطنی کا نعرہ لگانا محض لفاظی ہے۔

14th August speech in urdu

بقول شاعر:

  یہ ارضِ   کوہ    و   بیاباں  ،دیارِ   سنگ  وثمر
میرے  وجود  کا عنواں  نہیں، تو  کچھ  بھی  نہیں
زمیں   کا  پیار   نہیں کھیل  صرف لفظوں   کا
میں اس کی خاک پہ قرباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہاں کچھ بھی مثبت نہیں۔۔ملک میں جب بھی کوئی قدرتی آفت مثلا زلزلہ یا سیلاب وغیرہ آیا تو عوام نے ہمیشہ اک دوسرے کی مدد کی۔ یہ وطن قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور،سیاحوں کی کشش کا مرکزہے۔ ایٹمی قوت ہےیہاں ۔دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس ہے۔ یہ وطن ، ایدھی، انصار برنی اور ارفعہ کریم کی سرزمین ہے  نیکی اور بدی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔اس لئے ہمیں مایوسی کی بجائے حکمت عملی سے ان برائیوں  سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے جو ملک کے تشخص کو پامال کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔                                            

عوام اور حکام کو اپنے اپنے فرائض کو انجام دینے کی عملی کوشش کرنی ہو گی۔ حکومت رفاح عامہ کے کاموں کا جائزہ لے اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو جبکہ عوام ملکی قوانین پر عمل پیرا ہوں۔

 ہمیں اللہ کی ذات پر توکل کے ساتھ اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہو گا پھر ان شاء الله ہم  پاکستان کو اقبال کے خواب کی تعبیر بنا سکتے ہیں

۔بقول اقبال رح

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Sharing Is Caring:

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.